Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.
جمعہ ، 29 اگست ، 2025 | Friday , August   29, 2025
جمعہ ، 29 اگست ، 2025 | Friday , August   29, 2025

عجیب مناطق

ملکوں کی ترقی اداروں کے آپس میں تال میل سے ہی ممکن ہوتی ہے
****محمد مبشر انوار****
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر کی سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد پاکستان کے سلطانی جمہور میں بظاہر ایک واضح تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے کہ وہ کسی بھی صورت جمہوری عمل کے تسلسل میں رکاوٹ کو برداشت نہ کر نے کا عزم ہے۔ گو کہ یہی وہ جمہور ہیں جو 1999میں تمام تر وعدے وعید کے طالع آزما کیخلاف نہ صرف باہر نہیں نکلے تھے بلکہ اکثریت فوجی آمر کی حکومت میں شامل ہو گئے تھے۔
آج لیکن صورتحال بہت مختلف دکھائی دے رہی ہے اور سلطانی جمہور ،جمہوریت کے شیدائی بنے ترکی کی یاد تازہ کرنے کیلئے تیار نظر آتے ہیں لیکن کیا بوقت ضرورت یہ ممکن ہو سکے گا؟یا جو مناطق جمہوریت کے یہ شیدائی آپس میں ڈسکس کر رہے ہیں،وہ ممکنات میں سے ہے بھی یا نہیں؟چند ایک تو ایسی ہیں جن پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے کہ کیسے کیسے جغادری ہیں مگر منطق ایسی کہ جس میں نہ جمہوریت ہے اور نہ ہی اس کی اصل روح بلکہ صرف تفنن طبع کی خاطر یا صرف ایک نقطہ نظر کی خاطر!جمہور پاکستان میں جہاں معتد بہ رائے جمہوریت کے حق میں ہے وہیں ایسے ایسے نامی گرامی بھی ہیں جو مارشل لاو ٔں کی نرسری میں پروان چڑھے اور پھر جمہوریت کی راہ کے مسافر یوں ہوئے کہ جمہوریت صرف ’’انہی‘‘ کی ’’ذات شریف‘‘ تک محدود ،مگر بھول رہے ہیں کہ ان کے یہی ساتھی اور جمہور تھے جو 1999کے شب خون میں مٹھائیاں بھی تقسیم کرتے نظر آئے اور در پردہ اور ببانگ دہل ایک آمر کی کابینہ کے ممبر بھی بنے اور آپ کے طرز حکمرانی کی ٹھیک ٹھاک چھترول کرتے بھی نظر آئے لیکن جمہوریت کے خوشنما نعرے کے برعکس اقتدار کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور ایسے رہنمائوں کو آپ پھر سے 7خون معاف کر کے اپنی کابینہ میں شامل کرتے ہیں اور وہ جنہوں نے آمریت میں ماریں کھائی ہوں ایک بار پھر قربانی کے بکرے بنا دئیے جاتے ہیں۔ایسی بے شمار مثالیں آج بھی موجود ہیں جبکہ ’’موسمی پرندے‘‘ کسی بھی متوقع تبدیلی کے پیش نظر نئی اڑان کیلئے تیار رہتے ہیں۔ سابقہ مارشل لائوں کے حوالے سے سب جمہوریت پسندوں کی متفقہ رائے ہے کہ مارشل لا نہ تو کسی لا ء کا نام ہے اور نہ ہی یہ مسائل کا حل ہے مگر حضور والا! گزارش صرف اتنی سی ہے کہ آپ کی لولی لنگڑی جمہوریت ایسے ساماں کیوں پیدا کرتی ہے کہ مارشل لا وارد ہو؟آپ نے مارشل لا کا راستہ روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟عوام الناس کی حالت زار بہتر بنانے کیلئے آپ نے کیا کچھ کیا ہے؟فقط مسافت طے کرنے کیلئے میٹرو بسیں یا چمکتی ہوئی سڑکیں عوام الناس کی حالت زار کی بہتری کیلئے ہیں یا حکمرانوں کی ’’کمزور‘‘تجوریوں کو مزید صحتمند بنانے کی شعوری کوششیں؟آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آئین میں ترامیم(جو فقط ایک مخصوص گروہ )کیلئے کی جائیں وہ عوام الناس کی فلاح و بہبود کے زمرے میں شمار ہوں گی یا بے ایمانوں کیلئے اقتدار تک پہنچنے کا محفوظ آئینی راستہ مہیا کریں گی؟دنیا ترقی اور ایمانداری کی طرف سفر کر رہی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ آئینِ پاکستان میں ایسی ترامیم کی جائیں جو کسی بھی ’’داغدار‘‘شخص کیلئے اقتدار کا راستہ کھول دے؟حضور والا! ہم سے زیادہ آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ’’مذاق جمہوریت‘‘کے مطابق اگلے20 سالوں تک کسی بھی فوجی مداخلت کا امکان نہیں ماسوائے کہ مذاق جمہوریت کے ضامن اس کی اجازت دے دیں وگرنہ فوج اس دلدل میں پھنسنے کیلئے فی الوقت تیار نہیںاور یہ وقت بھی ضامنوں نے آپ کو سیاست بہتر بنانے کیلئے فراہم کیا تھا مگر بد قسمتی کہ آپ نے اس وقت کو غنیمت جانتے ہوئے ہر طرح سے عوام کا خون نچوڑنے کی ٹھان رکھی ہے۔ فوج پاکستان کا اہم ترین ادارہ ہے جو ہر مشکل وقت میں پاکستان اور پاکستانیوں کی مدد کیلئے کمر بستہ رہتا ہے اور دوسری طرف ہمارے سول اداروں کی مایوس کن کارکردگی ہے جس کے آپ براہ راست ذمہ دار ہیں کہ سیاسی مداخلت اس قدر ہے کہ سول ادارے چاہ کر بھی بہتری لانے سے قاصر ہیں،ان کے ہاتھ آپ کے دبائو اور مداخلت کی وجہ سے بندھے ہوئے ہیں جس کی حالیہ مثالیں محمد علی نیکو کارا اور شارق صدیقی ہیں۔
اگر آپ سویلین بالا دستی کے اتنے ہی قائل ہیں تو خدارا اس کا ثبوت اپنے عمل سے دیں ،سویلین اداروں کو کھل کر قوانین کے مطابق کام کرنے دیں بلکہ ہوتا اس کے الٹ ہے اور آپ کے سیاسی کارکنوں کی تربیت اور سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ یہ منطق پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ گریڈ 22کے آفیسر کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ’’منتخب وزیر اعظم‘‘ سے بازپرس کر سکے۔ در حقیقت یہ سوچ نرگیسیت کے مارے حکمران اپنے چرب زبان کارندوں کے ذریعے اپنے کارکنان تک پہنچاتے ہیں جن کی سوچ پہلے ہی شخصیت پرستی کے گرد گھومتی ہے اور شخصیت سے اوپر اٹھ کر وہ سوچ ہی نہیں سکتے۔حیرت ہے کہ اگر گریڈ 22کا آفیسر اپنی ڈیوٹی سر انجام نہیں دے سکتا تو ادارے کا کام کیا ہے؟اتنے ادارے کھڑے کرنے کی ضرورت کیا ہے؟فقط ’’حکمران خاندانوں‘‘ کی حفاظت اور ان کے ہر ناجائز اقدام سے چشم پوشی،ان کی لاقانونیت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہی ان اداروں کا کام ہے؟پھر یہ واویلا کہ فوج کام نہیں کرنے دیتی؟گریڈ 22 کے آفیسر کو اگر وزیر اعظم سے باز برس کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تو پھر یہ دہرا جرم ہے کہ ایک گریڈ22 کا آفیسر جس کے سامنے قانون شکنی ہو رہی ہو ،قانون شکنی کرنے والا ملک کا وزیر اعظم ہوتو وزیر اعظم بیک وقت 2جرائم کر رہا ہے ،اول یہ کہ قانون شکنی دوئم کار سرکار میں مداخلت،کیا کوئی عام شہری ایسی حرکت کا مرتکب ہو سکتا ہے؟یہ منطق نہ صرف بودی ہے بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے کہ ملک میں دو قوانین کیسے چل سکتے ہیں اور اگر 2قوانین ہوں تو ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے یا ادارے مثالی کیسے ہوسکتے ہیں۔
ان سب سے ہٹ کر اور سب سے خطرناک سوچ جو عوام الناس میں پھیلائی جا رہی ہے کہ چونکہ فوج ان کے ٹیکسوں سے تنخواہ وصول کرتی ہے،ان کی محافظ ہے ،ملازم ہے اور یہ فوج کا فرض منصبی ہے کہ وہ بوقت ضرورت عوام الناس کی خاطر گولی کھائے کہ اسی کی تنخواہ فوج کو دی جاتی ہے۔ ایک بات واضح ہو کہ فوج ریاست کی ملازم ہے نہ کہ کسی سیاست دان کی اور اس کی بنیادی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت ہے نہ کہ اندرون ملک پیدا ہونے والے مسائل کی مگر آفرین ہے فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیت پر کہ کسی بھی نا گہانی آفت کے موقع پر فوج سب سے آگے ہوتی ہے۔ یہاں اس امر کا اظہار انتہائی ضرور ی ہے کہ ہمارے خود ساختہ رہنما ،جو تاریخ سے یقینا نا بلد ہیں، نہیں جانتے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی آخری وقت تک ،امیر مصر سے توقع کرتے رہے کہ وہ امت کے حق میں فیصلے کریں گے اور اپنے ان مشیران سے دور رہیں گے جو یہودیوں اور عیسائیوں نے ان کے حرم میں داخل کر رکھے تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کو بہ امر مجبوری امیر مصر کو امارت سے محروم کرنا پڑا کہ عساکر کو بیک وقت 2محاذوں پر اپنی توجہ مبذول کرنا پڑتی اور اندرونی دشمن بیرونی دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک او رکاری وار کرنے پر قادر ہوتا ہے،بعینہ وہی صورتحال اس وقت پاکستان فوج کو در پیش ہے کہ وہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ کر رہی ہے اور سب سے زیادہ خطرناک محاذ اس کیلئے اندرونی ہے جہاں دشمن جاسوسوں کی بیخ کنی کیلئے کوئی مؤ ثر انتظام موجود نہیں اور ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ ان جاسوسوں کے سہولت کار اہم مناصب پر براجمان ہیں۔ آزادی کو قائم رکھنے کیلئے فو ج سرحدوں پر اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔ کیا سول حکومتیں اس کی پشتیبانی میں اندرونی محاذ پر کما حقہ کام کر رہی ہیں؟ملکوں کی ترقی اداروں کے آپس میں تال میل سے ہی ممکن ہوتی ہے وگرنہ ایسی ہی عجیب مناطق جنم لیتی ہیں،جن کا مقصد صرف گمراہی اور اداروں کا تصادم ہوتا ہے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں